Barf-Title2-01
Barf-Title2-01

برف کی عورت Barf ki Aurat

3.00 out of 5 based on 1 customer rating
(1 customer review)

$ 15

شاہین کاظمی

Product Description

Barf Ki Aurat is anthology of Urdu short stories of Ms. Shaheen Kazmi, a Pakistani Fictin Writer, based in Switzerland.

 

برف کی عورت، ایمل مطبوعات کی جانب سے شائع ہونے والی افسانوں کی پہلی کتاب ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ آغاز محترمہ شاہین کاظمی کی خوبصورت تخلیقات سے ہورہا ہے۔
شاہین کاظمی نے ان افسانوں میں اپنے تخلیقی وفور اور فنی مہارت سے نسوانی محسوسات اور مسائل کو اس طرح اجالا ہے کہ صنفی امتیاز کاشائبہ تک نہیں ہوتا اورمسائل خالص انسانی سطح پہ ظہور کرتے ہوئے قاری کے ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں۔ مصنفہ نے صنفی تقسیم سے ماورا ہو کر نسوانی جذبات کو اتنی خوبصورتی سے زبان دی ہےکہ قاری دوران مطالعہ اپنی عورت یا مرد کی حیثیت بھو ل کرکہانی کے ساتھ بہنے لگتا ہے اور افسانے کے کردار وں کی زندگی جینے لگتا ہے۔ یہی مصنفہ کے فن کی معراج اور تخلیقی اپج کا حاصل ہے۔اپنے وطن اور لوگوں سے دور رہ کر انکے بارے میں اس شدت اور گہرائی سے محسوس کرنا شاید ترک وطن کا وہ حاصل ہے جس سے حظ اندوزی اہل وطن کےحصہ میں آتی ہے۔
بصری فکشن کے اس دور میںکتاب کے صفحہ سے اپنے ذاتی تخیل تک سفر کرنا اس صنف کا وہ مقصود ہے جس سے آج کا انسان تیزی سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ اس دور میں کہ جب اردو دنیا میں کتاب سے تعلق “کتابی” سا ہو چلا ہے، اپنے ماحول سے ماخوذ اورمعاشرہ سے جڑی ایسی کہانیاںقاری کو کتاب سے جوڑنے میں معاون ہوں گی۔

Shahid Awan

Phblisher

 

شاہین کاظمی کی جو چند کہانیاں میری نظر سے گزری ہیں ان کی سب سے بڑی اور نمایاں خوبی تو یہ ہے کہ ہر کہانی کا ڈکشن ذخیرہ الفاظ اور کرداراپنے موضوع سے جڑے ہوئے ہیں یہ وہ خصوصیت ہے جو فی زمانہ نا پید ہوتی جا رہی ہے کہ بیشتر افسانےایک ہی دیگ سے نکالے ہوئے چاول محسوس ہوتے ہیں اور یہی وہ اورجنیلیٹی ہے جس سے کوئی کہانی کار باقیوں سے منفرد اور ممتاز ہوتا ہےذیادہ تر کہانیاں علامتی پیرائےمیں لکھی گئی ہیں مگر یہ علامتیں ایسی واضح گہری اور پُر اثر ہیں کہ ان کو سمجھنے کے لیئے آپ کو انعامی معمے حل نہیں کرنے پڑتے ان کی کہانی “سیندھ” پڑھتے ہوئے مجھے احمد ندیم قاسمی صاحب کے آخری دود کی دو کہانیاں “جوتا” اور ” بین” بہت یاد آئیں کہ ایسے نازک اور خطرناک موضوع پر لکھتے وقت تو بڑے بہادر اور کمیٹڈ مرد بھی گھبرا جاتے ہیں جبکہ ایک خاتون ہونے کے با وجود شاہین کاظمی نے صورت حال کی ایسی مکمل اور موثر منظر کشی کی ہے کہ جس پر سوائے آفرین کے اور کچھ کہنا بے انصافی کے زمرے میں شمار ہو گا
امجد اسلام امجد

میں نے شاہین کاظمی کو ایک نئی لکھنے والی جان کر، ان کی کہانیوں کا مسودہ ایک طرف رکھ دیا تھا مگر اَب جو اِنہیں اچانک اور بے اِرداہ پڑھ لیا تو لگتا ہے یہ میرے لہو میں اور میری نَس نَس میں اُتر گئی ہیں۔ اِن افسانوں میں محض ماجرا ہی اہم نہیں ہے، جس قرینے سے واقعات کو تاثیر کے پانیوں سے گندھے بیانیے میں ڈھالا گیا ہے وہ بھی لائق توجہ ہوگیا ہے۔ اور لطف یہ کہ شاہین کاظمی کسی ایک منظر نامے اور کسی ایک زمانے کی قاش کو نہیں اٹھاتیں یا فقط اپنے ہی آس پاس کی زندگی کی اسیر نہیں رہتیں؛ اِن دائروں کو توڑتی ہیں اور زندگی کے تنوع کو لکھتے ہوئے اپنے قلم کی توفیقات بڑھالیتی ہیں۔ خیر، ان افسانوں کا یہ تنوع زمینوں، زمانوں اور ان میں رَچے بسے کرداروں کے حوالے سے ہی ہے کہ شاہین کاظمی کا بنیادی قضیہ ہرزمانے اور ہرمنظر نامے میں سسکتی بلکتی عورت رہی ہے اور وہ عورت بھی جو کہیں کہیں اَپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم سے اوب کر اِنتقام لینے کی ٹھان لیتی ہے۔
شاہین کاظمی نے کسی زمانے یا کسی بھی زمین کی عورت کو لکھتے ہوئے مرد کے اُن سماجی، سیاسی، ریاستی اور مذہبی حیلوں کو نشان زد کردیا ہے جو وہ عورت کے استحصال میں بروئے کار لاتا رہا ہے۔ کہیں گہرے حزن کے ساتھ اور کہیں اپنے اندر تیز اور تیکھے معنیاتی اِسراع کو ممکن بناتے ہوئے، ہماری اس افسانہ نگار نے رواںدواں فکشن کے خالص بیانیے میں تاثیر کاعجب جادو رکھنے کا ہنر وتیرا کیا ہوا ہے۔ عین آغاز ہی میںجس کے قلم پر عطا کا یہ عالم ہو، کامیابی اس کا مقدر ہوجایا کرتی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ شاہین کاظمی کے یہ افسانے اپنے قارئین میں بہت مقبول ہوں گے اور آنے والے دِنوں میں اس افسانہ نگار کا اگلا سفر مزید بلندیوں کا ہوگا۔
محمد حمید شاہد

اک اور طلسمِ ہوش ربا

لفظ ایک ایسی اکائی ہے، ایک ایسی قوت ہے جو کائناتی وسعتوں میں اپنا آپ منواتی اور اپنا اثر دکھاتی ہے۔ الفاظ اپنے عہد کی سچائی کا واضح اور واشگاف اعلان ہیں۔ جہاں ان کی اثر پذیری توانا اور حیرت انگیز ہے، وہیں ان کی نمو پذیری بھی ہوشربا ہے۔ یہ افکار کو سینچتے اور انہیں زندہ رکھنے کا فن جانتے ہیں۔
ماورائی خطے ہوں یا تلخ زمینی حقیقتوں کا کٹھن سفر، الفاظ کی نمو پذیری کہیں نہیں رکتی۔ اس کے لیے شرطِ اوّل الفاظ کے خالق کا مسیحا دست ہونا لازم ہے۔ ایسا مسیحا دست جو ان کی حرمت سے آگاہ ہو، ان کی قدر پہچانتا اور ان کے مرتبے کا رازدان ہو۔ ایسی صورتِ حال میں الفاظ خود کو منکشف کرتے ہیں اور اپنے تخلیق کار کو اس سطح پر فائز کر دیتے ہیں جہاں نیستی جیسی ابدی حقیقت بھی ہمیشگی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
منطقہ کوئی بھی ہو، سُراور لے اجنبی زمینوں کا استعارہ ہی کیوں نہ ہوں، تخلیق کار اگر لفظ کے باطن میں پنہاں نور سے آگاہی رکھتا ہے اور اسے جِلانے کے فن میں طاق ہے تو حروف اس کے حق میں گواہی ضرور دیں گے۔
الہام کی رتوں میں الفاظ کی آبیاری ہو تو ہیئت و اسلوب اس کا منہ بولتا آئینہ دکھائی دیتے ہیں۔ کردار تراشنے کے لیے کسی تیشے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خود بخود انتہائی نامحسوس طریقے سے عدم سے وجود کی سمت سفر کرتے اور اپنے خالق کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔ میرا ایمان ہے الفاظ کبھی نہیں مرتے بشرطیکہ ان کا خالق ظاہری اور باطنی طور پر نہ صرف زندہ ہو بلکہ عصر رواں کی پکار پر کان دھرنے والا بھی ہو۔
شاہین کاظمی کا افسانوی مجموعہ ”برف کی عورت“ ایک ایسا ہی جان گداز مکاشفہ ہے۔ ایک ایسی واردات، ایک ایسا الہامیہ ہے جو نہ صرف اپنے خالق کے ہنرکی گواہی دیتا ہے بلکہ اس کی بقا کا ضامن بھی ٹھہرتا ہے۔ یہ الہامیہ نہایت خاموشی سے اندر سیندھ لگاکر حیرتوں کا ایک نیا در کھولتا ہے۔ یہ کتاب ایک ایسی حیرت سرا ہے جہاں قدم قدم پر طلسم کدے ہیں۔ کہیں اسلوب کا طلسمِ ہوشربا ہے، کہیں کرداروں کا تحیّر کدہ ہے، کہیں کہانی کی الف لیلوی فضا ہے اور کہیں بُنت کے نظر نہ آنے والے ریشمی دھاگوں نے قاری کو جکڑ رکھا ہے۔
میں نے جب سے یہ افسانے پڑھے ہیں اور ان پر کچھ لکھنے کا ارادہ باندھا ہے تب سے مسلسل سوچ میں ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ ڈکشن سے کہ جو مجھے کھاگئی۔ ایسا لگا لفظ تلاش میں تھے کہ کب کوئی ایسا آئے جس پر وہ خود کو منکشف کردیں۔ لفظ نہیں ہیں، تصویریں ہیں۔ نفش ہیں۔ کوزے ہیں جو خود تخیّل کی تغاری میں مٹی بن کر گندھ گئے تھے اور بضد تھے کہ ہمیں شکل دو۔ کسی صورت میں ڈھال دو۔ ہمیں زندہ کر دو۔ کہانی پر بات کروں جو کسی الہڑ مٹیار کے جوبن کی طرح بے عیب ہے اور جس میں کہیں کوئی جھول نہیں۔ کرداروں کو چھو کر دیکھوں جو آبِ حیات پی کر آئےہیں۔ ایسے جیے ہیں کہ مرنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ سامنے تن کر کھڑے ہیں۔ جیتے جاگتے ، سانس لیتے اور معاشرے کے ہر فرد کے ہاتھ میں فردِعمل تھماتے ہوئے۔ اس کرب کو بیان کروں جو افسانہ پڑھ کرمیری رگوں میں اتر گیا ہے ۔ روح کو چیر گیا ہے۔ یقین جانیے میں شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا کہ آپ کی انگلی تھاموں اور اس حیرت سرا میں لے چلوں۔
افسانہ ”سیندھ“ سے لیے گئے مندجہ ذیل دو پیراگراف زمان و مکان اور زبان و بیان کے اعتبار سے اس بات کے گواہ ہیں کہ گو لفظ ذائقہ رکھتے ہیں نہ خوشبو، لیکن اگر اپنی تمام تر نمو پذیری میں کاملیت اور جذب کی ارفع سطح پر فائز ہوں تو زمینی حدود سے نکل کر آفاقیت میں ڈھل جاتے ہیں۔
”سیندھ“ کی رجو ہو یا زہرہ معاشرتی جبر اور خانقاہی نظام کی بندشوں تلے کراہتی نظر آتی ہے۔ ایسے کردار جیسا کہ میں نے پہلے کہا تراشے نہیں جاتے یہ بس عدم سے وجود میں آکر اپنی شخصی خوبصورتی سے مبہوت کرنا جانتے ہیں۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ان کرداروں کو خود پر اوڑھ لیا جائے ان کا درد اندر اتار کر اس کی تلخی کو بوند بوند چھکا جائے۔

”حجرے میں تیسری بار دومہینوں کی حاضری پر باہر کھڑے مریدوں کی نظریں ایک بار اٹھیں اور جھک گئیں، ہوا کی تیز سماعت دھیمی دھیمی سرگوشیاں لے اڑی اور چپکے سے حویلی کی بلند دیواروں کے اُس پار لا پھینکا، زہرا بھیگی آنکھوں میں لرزتی حیرت چھپا کر یوں ادھر اُدھر دیکھنے لگی جیسے چوری پکڑے جانے کا ڈرہو۔ یہ نہیں کہ وہ اعلیٰ حضرت کے مشاغل سے بے خبر تھی۔۔۔ لیکن پڑاؤ حلق سے نیچے نہیں اُتر رہا تھا۔ اندر کِن مِن شروع ہوئی تو وعدوں کی ڈال پر کھلے ننھے ننھے پھولوں پر کُہرا اُتر آیا۔ رشتے کے تن پر بھروسے کی نازک اور تنگ چولی مسکنے لگی۔

رَجو نے ملیح رخساروں سے نُچڑتا لہو اور لبوں کی لرزش بھانپ لی۔ جب لمبی مخروطی انگلیوں کی پوروں میں موت کی سی ٹھنڈک اُتری تو رُجو بنا کہے پاس پڑا چنبیلی کے پھولوں والا تیل ہتھیلی پر اُنڈیل کر زہرا کے لمبے بال کھولنے لگی اُس کی انگلیاں بہت ملائمت سے گھنے بالوں میں ڈوب ابھر رہی تھیں کسی ہوئی سانولی رنگت والی بھر ی بھری کلائیوں میں پڑی سستی کانچ کی چوڑیوں نے سِتار چھیڑ دیا۔
” وہ اس قابل ہے کہ لہو میں اُبال آئے؟َ“ رجو کا لہجہ ہموار تھا۔
”تو جانتی ہے مجھےدکھ طلبی کا نہیں مکرنے کا ہے۔“ زہرا کی آواز میں نامحسوس اداسی تھی۔
” شاہ بی بی آپ کی سانس کا ہر سر پہچانتی ہوں، قطرہ ماسہ جھول ہنیری گُھلا دیتا ہے لیکن بات وہی کہ جوتی لعل جَڑی بھی ہو چاٹتی تو خاک ہی ہے۔“
(سیندھ)
————————————————
”اللہ رسول کے نام پر کیے جانے والے گناہ کی لذت بڑی وکھری ہوتی ہے۔ ایک بار سواد منہ کو لگ جائے تو بندہ حلال کھانے کے لائق نہیں رہ جاتا-
مائی جی کی آواز میں تلخی تھی۔
” لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔؟“ زہرا حیران تھی، اُس نے پھر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ماں سے کبھی اتنی کھلی بات نہ ہوئی تھی۔
” یہ باتیں تیری سمجھ میں نہیں آئیں گی زہری نا کھپ“
قبروں کی مجاوری کرتے کرتے یہ خود بھی مردے ہوگئے ہیں اور چلے ہیں دوسروں کو جنت دلانے، نرا گند۔ مائی جی پھٹ پڑیں۔
”شاید ہماری خوشیوں کی چاٹی میں لگنے والی جاگ ہی بددعائی ہوئی ہے، لاکھ پہرے داری کرو بلیاں مکھن کھا ہی جاتی ہیں۔“
زہرا کچھ نہ سمجھی پر اندر ایک گانٹھ ضرور لگ گئی، پھر گانٹھیں بڑھنے لگیں۔ پھنئیر ناگ کی طرح ڈستے سوال سانسیں تنگ کرنے لگے۔“
(سیندھ)
____________________________
خود ساختہ روایات کی دیواریں کتنی ہی خستہ کیوں نہ ہوجائیں، ان کے سائے تلے عمریں گزار دینے والے ان کو منہدم کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہمارے معاشرے کی کہنہ اور کرم خوردہ اقدار جانے کتنی بتولوں کی زندگیاں نگل گئی ہیں۔ ایسی فنکارانہ نفاست سے مذہب، عقیدے اور جھوٹی انا کے نام پر ڈھائے گئے ظلم کو بیان کرنا اور پھر اس بیانیے میں اتنا درد سمو دینا کہ قاری کی رگوں کا خون نچڑ نے لگے آسان نہیں۔ افسانہ ”برزخ“ سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”نا بی بی ہم غیر سیدوں سے بیٹیاں لیتے ہیں دیتے نہیں۔“ ادا سائیں کی آواز کافی بلند تھی۔ گمان کی ننگی پیٹھوں پر سفر بہت تکلیف دہ ہوتا ہے انگ انگ میں در بھر جاتا ہے اور جب پاؤں تلے سے زمیں کھینچ لی جائے ہو حقیقتوں کےبھیانک سائے ڈرانے لگتے ہیں ،یہ بات بھابھی پرآج عیاں ہوئی تھی۔
” بتول مجھے معاف کردے میں نے تیرے ساتھ ظلم کیا۔ تیرے اچھے رشتے آئے تھے لیکن زمین کا بٹوارہ نہ مجھے منظور تھا نہ میر حسن کو اس لیے ہم منع کر دیتے رہے۔“
” اور اماں؟ اماں کو خبر تھی اس بات کی؟ ” بتول کی آواز چٹخ رھی تھی اندر اُگے ہوئے ریگزار میں ریت اڑنے لگي سائیں سائیں کرتی ہوائیں ضبط کی دیواروں سے سر پٹخ رہی تھیں، دکھ کے زھریلے ناگ پھن کاڑھے روح کو ڈسنے لگے ۔
”نا اماں کو کیسے خبر ہوتی رشتے والوں کو باہر ہی باہر منع کردیا جاتا تھا۔“
آگہی کے عذاب سے بتول آج آشنا ہوئی تھی کس قدر جان لیوا ہوتا ہے۔ تن سے جان نچوڑ لیتا ہے۔ سانسوں میں برچھیاں اترنے لگتی ہیں۔ رگوں میں دوڑتا لہو لاوا بننے لگا۔ اندر اس قدر بے چینی در آئی تھی کہ سانسیں رکنے لگی تھیں۔ اسے زندگی میں پہلی بار ان سب سے نفرت محسوس ہوئی تھی، بے پناہ نفرت۔
صرف پچھتاوا احساسِ گناہ کوکم نہیں کر سکتا۔ دائرے میں گھومتی ہوئی زندگی آپ کو کبھی نا کبھی اس مقام پر لے ہی آتی ہے جہاں سود سمیت ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یہ توازن کے لیے بہت ضروری ہے۔“
بتول کہنا چاہتی تھی لیکن الفاظ کا زیاں اسے منظور نہ تھا وقت نے اسے مَن مارنا سکھا دیا تھا۔ سو چُپ نہ ٹوٹی، گو منصفی کی فصیلوں پر جلتے دیوں کی لَو بہت تیز تھی لیکن اسے ایسا انصاف بھی منظور نہ تھا۔ اسے رسم و رواج کے بَندِی لوگوں سے نہیں رواجوں سے ٹکرانا تھا۔ اُن فصیلوں کو توڑنا تھا جن کے اندر بنے قبرستان میں آسیب کی طرح منڈلاتی روحیں اس برزخ سے رھائی کی منتظر تھیں۔“
(برزخ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہین کاظمی ایک ایسی جرآت مند افسانہ نگار ہیں جنہوں نے ایسے مشکل اور متنازعہ موضوعات پر بھی اپنے قلم کو نشتر کی طرح چلایا ہے جہاں واقعتا” جرّاحی کی ضرورت تھی۔ بعض موضوعات ٹیبو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سے وابستہ سنگلاخ حقیقتوں اور روح چیر دینے والے مظالم کے باعث انہیں موضوع_گفتگو بنانا تو درکنار، ان کا ذکر کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسا محض ذہنی عیاشی کی خاطر ہوتا تو یہ احتراز بجا تھا لیکن اگر غلط مذہبی یا ثقافتی رسومات کے نام پرکوئي ستم روا رکھا جائے تو اس پر خاموش رہنا نہ صرف جرم ہے بلکہ گناہ_ عظیم ہے۔ تخلیق کار اگرچہ اپنی مٹی اور ثقافت سے بہ گہرائي تک جڑا ہوتا ہے مگر اس کا احساس سرحدوں کا محتاج نہیں بھی ہوتا۔ وہ درد کی سانجھ کا امین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہین نے ایسے پیچیدہ موضوع کو بھی افسانے میں اس خوبی سے ڈھالا ہے کہ اس افسانے سے ٹپکنے والا درد قاری کی رگوں میں بھی اتر ایا ہے۔ اردو ادب میں اس موضوع پر شاید ہی ایسا افسانہ اس سے قبل لکھا گیا ہو:
” مجھے اُجڑتے گاؤں اور بستے قبرستانوں سے خوف آتا تھا۔ میں بارھا لیڈی کیتھرین سے ملی۔
” اندر آگ بھری ہو تو سمجھو تم زندہ ہوسینہ جلنا بند ہوجائے تو زندگی مر جاتی ہے بہاؤ آگ کو گیان اور پھر فیضان کی منزل تک لے آتا ہے۔“
”اسے الفاظ میں ڈھالو باقی میں دیکھ لوں گی۔“
لیڈی کیتھرین کو نبضوں پر ہاتھ رکھنا آتاتھا۔ میں نے اپنی آگ کو الفاظ کے پیراہن کیا دیئے سیاہ آندھیوں نے میرے بدن کی دیواروں کو چاٹنا شروع کر دیا۔ لیڈی کیتھرین نے وہ الفاظ موگادیشو تک پھیلا دئیے تھے۔میری روح اور بدن پر چرکے بڑھنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ میرا حوصلہ بھی۔ دئیے میں صدیوٖں سے لہو بھراجا رھاتھا لیکن آگ باغی تھی سومیں نے خود کو آگ لگا لی۔
(برف کی عورت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں حیران ہوں کہ افسانہ ایسے بھی لکھا جاسکتا ہے۔ لفظوں میں اس طرح جان بھر دینا کہ کاٹو تو لہو ٹپکے، مناظر کو اس طرح پینٹ کر دینا جیسے ڈوبتے سورج کی لالی دکھ کو تہ در تہ اندر اتار رہی ہو۔ کردار ہیں کہ جیتے جاگتے، سانس لیتے، دکھ جھیلتے انسان۔۔۔ کیفیتیں ہیں کہ روح میں چھید کرتے ہوئے بالے۔۔۔ پہلے حرف سے لے کرآخری نقطے تک کہیں کوئی جھول نہیں، نہ پلاٹ میں اورنہ کرداروں کے ارتقا میں۔ مجھے اس جھرنے کی طرح بہتی نثر میں ایک عجیب ترنم سنائی دیا، دل کے تاروں سے کھیلتی ہوئی غنائیت۔۔۔ ایک مکمل اکائی کی طرح کہانی اس رنگ محل کے زینے چڑھ گئی: جسے لوگ افسانہ کہتے ہیں۔
”پیڑوں کے بدن نوچتی ہوا سسکنے لگی۔ بادلوں سے اترتی دھند ذہنوں پر جم رہی تھی۔ منظر سرمئی بے کیفی اوڑھ کر پتھر ہوگئے۔ میری پوروں سے دھنک رنگ چھٹنے لگا۔ جنت کی مشکبار مٹی میں تھوہر اُگ آیا۔ دھنک لمحے جانے کب کالی رات کو نیوتا دے بیٹھے۔ غبار بڑھنے لگا۔۔۔ ماں بہت یاد آئی۔
مجھے دروازے کی دھاڑ یاد ہے۔ گھنی مونچھوں تلے کف اُڑاتے لب اور برمے کی طرح روح میں اُترتی چنگھاڑ۔
” حرامزادی تجھے میرا ہی بیٹا ملا تھا پھانسنے کو۔“ گال پر دھرے انگارے نے سر میں چھید کرنا شروع کر دیا۔
(ایک بوسے کا گناہ)
———————————–
شاہین کاظمی ایک کثیر المطالعہ شخصیت ہیں۔ وہ طویل عرصے سے سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں۔ مشرق و مغرب کے متعدد ممالک کی سیاحت نے ان کے مشاہدے کوبھی مزید وسعت سے ہمکنار کیا ہے۔ جہاں وہ اپنی دھرتی کی کوکھ میں جنم لینے والی سسکتی، بلکتی اور کُرلاتی کہانوں کو تخلیق کا ترفع عطا کرتی ہیں، وہیں مغربی معاشرے سمیت دنیا بھر کے دکھوں کو سمیٹ لائی ہیں۔ یہ کتاب کبھی ہمیں پنجاب کے دیہاتی پس منظر سے آشنا کرتی ہے اور ہرے بھرے کھیتوں میں سونا اگلتی فصلوں سے پرے کی دلدوز کہانیاں سناتی ہے، جہاں جبر، معاشرتی ناہمواری اور سفاک رسوم و رواج کی حویلیوں سے زہرا،رجو ، بتول اور سلمیٰ کی چیخیں بلند ہوتی ہیں۔ کبھی اٹلی کے پومپیائی کے آتش فشانوں میں سانس لینے والے آرمینڈو اور لوینیا کے چہروں پر ملال کو شفق کی زردی سے ہم رنگ کرکے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ کبھی صومالیہ کے تاریک گلی کوچوں میں برف کی عورت کے بین سے ہمارے دل دہلا دیتی ہے۔ کبھی جرمنی کے کنسٹریشن کیمپ کی روح فرسا داستانیں سناتی ہے اور کبھی افغانستان کی سرزمین سے بارود کی گھن گرج تلے دب جانے والی وائلن کے دھیمے دھیمے سُر سے ہمارے دل درد سے بھر دیتی ہے۔

یوں ہم اس کتاب کے طفیل ایک ایسے کلائیڈو سکوپ کا لطف بھی لیتے ہیں جو منظر بدل بدل کر ہمارے سامنے لاتا ہے اور ابھی بمشکل ایک منظر آنکھ کی پُتلی پر جم پاتا ہے کہ کلائیڈو سکوپ منظر تبدیل کر دیتا ہے۔ باہر منظر تبدیل ہوتے جاتے ہیں مگرتماشائی کے اندر کا منظر تبدیل نہیں ہوتا۔ دکھ کہیں بہت اندر اس میں اتر کر گھر بنالیتا ہے۔ وہاں بس جاتا ہے۔ پھر حلق میں آنسو ٹپکاتی اداسی، بین کرتی خاموشی اور درد کی نیلی شفق راج کرتی ہے۔
شاہین نے اپنے موضوعات کو ایسا تنوع اور ترفع بخشا ہے کہ ان کے افسانوں کی آفاقیت فوری اپیل کا باعث بنتی ہے۔ کبھی وہ ایک فیمینسٹ نظر آتی ہیں جو عورت پر ہونے والے جبر کی نقیب ہیں۔ ایسے میں ان کا تانیثی حوالہ بہت ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اسی تانیثیت میں کہیں بڑی سی چادر کی بُکل اوڑھے نسائیت بھی کسی نیم وا دروازے سے جھانکتی دکھائی دیتی ہے۔ پھر اچانک اگلے ہی لمحے وہ کائناتی سچائیوں کو موضوع بناتی نظر آتی ہیں۔ سائنس، خوف، اسرار، جنگ، بھوک، نفسیات، محبت، مابعدالطبیعات اور انسان کی ابدی بے کلی ان کے افسانوں کے نمایاں موضوعات ہیں۔ ان کا افسانہ جب اس ہمہ گیریت کے ساتھ وجود میں آتا ہے تو کسی ایک مخصوص رنگ کی چھاپ کا عنقا ہونا لازمی امر ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شاہین نے اس کا شعوری یا غیر شعوری اہتمام کر کے بہت کامیابی سے خود کوان خواتین افسانہ نگاروں کی اس صف سے نکال لیا ہے جنہوں نے تانیثی حوالے کو نعرہ بناکر خود کو محدود کرلیا ہے ۔ تانیثی تحریک سے جڑنا اور بات ہے، مگر محض اسی حوالے سے پہچانا جانا ایک مختلف بات ہے۔ ہر تحریک کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے۔ بڑا اور سچا تخلیق کار اپنے عہد کے اثرات بھی قبول کرتا ہے، ان تحریکوں سے بھی وابستہ ہوتا ہے، مگر بڑی دانشمندی سے خود کو آفاقیت سے وابستہ رکھتا ہے اور صرف کسی ایک زمین پر اپنے پنکھ نہیں پسارے رکھتا۔ شاہین کاظمی نے بڑی دانشمندی سے افق سے بلند ہوتے سورج پر نگاہ رکھی ہے۔

شاہین نے افسانے کی تکنیک کو بھی بہت مہارت سے برتا ہے۔ انہوں نے سیدھے سبھاؤ طریقے سے بھی کہانیاں لکھی ہیں۔ علامت کا بھرپور، جاندار اور معنی خیز استعمال بھی کیا ہے اور شعور کی رو کو بھی خوب آزمایا ہے۔ یوں انہوں نے روایت سے جڑے رہنے کے باوجود جدید تر رویوں اور تجربات سے بھی خود کو وابستہ رکھا ہے۔ تجریدیت اگر لایعنیت کی طرف مائل ہوجائے اور قاری کو مفہوم برآمد کرنے کے لیے مختلف دیواروں سے سر ٹکرانا پڑے تو وہ ایک ذہنی ورزش تو کہلائی جاسکتی ہے لیکن اسے ایک کامیاب ادبی فن پارہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ علامت کا متناسب اور با معنی استعمال بھی کہانی کی ضرورت ہوتا ہے، مگر کہانی کو ریشم کے دھاگوں کی طرح الجھا دینے سے کمیونی کیشن نہیں ہوپاتی جو کہانی کا بنیادی مقصد ہے۔ شاہین کے ہاں علامت ذہین اور زیرک قاری کے لیے ایک چیلنج ضرور ہوتی ہے، مگر ان دھاگوں کا سرا بہرحال ہاتھ آہی جاتا ہے اور جب سرا ملتا ہے تو ساری کہانی ایک ترتیب سے بُنے ہوئے سویٹر کی طرح کھلتی چلی جاتی ہے۔ ان کا افسانہ علامت کی کشتی پر سوار ہوکر تفہیم کا دریا پار کرتا ہے۔ یہی ابلاغ کہانی کی جان ہے۔

افسانہ شاید تب تک اپنی تعریف پر پورا نہیں اترسکتا جب تک اپنے تمام لوازمات کے ساتھ جلوہ گر نہ ہو۔ کہانی، کردار، پلاٹ اور ان سب کو زندہ کرتا ہوا اسلوب۔ شاہین کاظمی ایسی تخلیق کار ہیں جو پہلے کہانی کوخود پر جرتی ہیں، کرداروں میں ایک عمر گزارتی ہیں اور اس ماحول میں طویل عرصہ سانس لیتی ہیں۔ پھر جب وہ لکھنے بیٹھتی ہیں تو لفظ اپنی نشست و برخواست ایسے فطری انداز میں کرتے ہیں کہ قاری اس تخلیقیت کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ میں نے ان کے اسلوب کو رشک آمیز انداز میں دیکھا ہے۔ خواہش کی ہے کہ ایسا لکھا جا سکے مگر یہ سب توفیق کی باتیں ہیں۔

سنتے آئے تھے کہ شاعر پر نزول ہوتا ہے۔ اب افسانے کا نزول ہوتے بھی دیکھ لیا۔ واللہ ایسا افسانہ نزول کے بغیر نہیں لکھا جا سکتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں“
شاہین کاظمی کا ہنر غیر معمولی ہے۔ ایسا دلکش اسلوب، دل میں پیوست ہوجانے والے جملے، دیکھی اور ان دیکھی دنیاؤں کی کتھا، پراسرار ماحول، محبت کے آفاقی موضوع کا ما بعدالطبیعاتی طرزِ احساس میں احاطہ، طلسماتی کردار نگاری، قطرہ قطرہ درد ٹپکاتی اور آنسو گھلاتی کہانی اور جانے کیا کیا جو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، کہا نہیں جا سکتا۔

شاہین کاظمی کی تحریروں کا ایک نشہ ہے، ایک ایسا نشہ جو زخم کریدنے اور کریدتے رہنے پر مجبور بھی کرتا ہے اور درد کی مٹھاس کو کم بھی نہیں ہونے دیتا۔ زبان، انداز، کہانی، پلاٹ، فضا اور کردار۔ یہ ہیں وہ عناصر جو شاہین کے افسانے کو اس مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں خال خال ہی کوئی دوسرا کھڑا نظر آتا ہے۔ ان کے اکثر افسانوں کی طرح کہانی کی گرفت بھی کسی ایک مقام پر ڈھیلی نہیں پڑتی۔ آغاز سے اختتام تک قاری کی نبض پر ہاتھ رکھنے کا ہنر انہیں بخوبی آتا ہے۔ کہیں کوئی جھول نہیں کوئی غیر ضروری جملہ نہیں ملا۔ اختصار کے باوجود ہر عمل اپنا پورا جواز لیے ہوئے ہے۔ میرا خیال ہے افسانہ نگار کو قدرت نے کچھ ایسا اسم عطا کررکھا ہے کہ بس پھونکنے کی دیر ہوتی ہے اور افسانہ ایک خوبصورت اسلوب میں ڈھل کر، کرداروں کو مطلوبہ کاسٹیوم پہنا کر اور کہانی اپنی دلکش بُنت اوڑھ کر ایک دلربا حسینہ کی طرح سب کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دیکھنے والے دانتوں میں انگلیاں دابے اپنی اپنی جگہوں پر پتھر ہو جاتے ہیں۔ میں بھی پتھر ہوگیا ہوں۔
یہ افسانوں کا مجموعہ نہیں، درد کی ایک لہر ہے جو قاری کے رگ وپے میں سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔ مصنفہ نے کرداروں کو تراشا نہیں، اس میں جی کر دیکھا ہے، انہیں اوڑھ کر محسوس کیا ہے۔ اس کے بغیر انہیں اس طرح زندہ کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ ایسی ایمپتھی شاذو نادر ہی کسی افسانہ نگار کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ کہانی کی مسحور کن فضا، جیتے جاگتے، سانس لیتے کردار، تار تار سے چھب دکھلاتی فنکارانہ بُنت اور گھائل کر دینے والا اسلوب۔ مجال ہے جو کہیں جھول آیا ہو، کردار تھوڑا سا مسک گیا ہو یا فضا ذرا سی بھی دھندلائی ہو۔ میرا بھی بہت جی چاہتا ہے کہ نقاد بن کر کوئي نئی بات کروں اور نقص کا کوئی پہلو نکالوں۔ مدبر بن کر انہیں واجبی سے افسانے کہوں ، فنّی لحاظ سے بہتری کے مشورے دوں اور خود کو دانشوری کے بلند منصب پر فائز کر لوں مگر میں کیا کروں کہ مجھ سے ایسا کچھ ہو نہیں رہا سوائے اس کے کہ کھل کر شاہین کاظمی کا اعتراف کروں اورتماتر شرحِ صدر کے ساتھ کہوں کہ شاہین کاظمی افسانے کے منظر نامے میں پوری قامت کے ساتھ کھڑی ہیں اور بہت بلند دکھائی دے رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب آنے والے دنوں میں اپنی بھرپور پہچان بنائے گی اور اردو افسانے میں ایک حوالے کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔
سلمان باسط

1 review for برف کی عورت Barf ki Aurat

  1. 3 out of 5

    :

    برف کی عورت، ایمل مطبوعات کی جانب سے شائع ہونے والی افسانوں کی پہلی کتاب ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ آغاز محترمہ شاہین کاظمی کی خوبصورت تخلیقات سے ہورہا ہے۔
    شاہین کاظمی نے ان افسانوں میں اپنے تخلیقی وفور اور فنی مہارت سے نسوانی محسوسات اور مسائل کو اس طرح اجالا ہے کہ صنفی امتیاز کاشائبہ تک نہیں ہوتا اورمسائل خالص انسانی سطح پہ ظہور کرتے ہوئے قاری کے ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں۔ مصنفہ نے صنفی تقسیم سے ماورا ہو کر نسوانی جذبات کو اتنی خوبصورتی سے زبان دی ہےکہ قاری دوران مطالعہ اپنی عورت یا مرد کی حیثیت بھو ل کرکہانی کے ساتھ بہنے لگتا ہے اور افسانے کے کردار وں کی زندگی جینے لگتا ہے۔ یہی مصنفہ کے فن کی معراج اور تخلیقی اپج کا حاصل ہے۔اپنے وطن اور لوگوں سے دور رہ کر انکے بارے میں اس شدت اور گہرائی سے محسوس کرنا شاید ترک وطن کا وہ حاصل ہے جس سے حظ اندوزی اہل وطن کےحصہ میں آتی ہے۔
    بصری فکشن کے اس دور میںکتاب کے صفحہ سے اپنے ذاتی تخیل تک سفر کرنا اس صنف کا وہ مقصود ہے جس سے آج کا انسان تیزی سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ اس دور میں کہ جب اردو دنیا میں کتاب سے تعلق “کتابی” سا ہو چلا ہے، اپنے ماحول سے ماخوذ اور معاشرہ سے جڑی ایسی کہانیاںقاری کو کتاب سے جوڑنے میں معاون ہوں گی۔
    ہم محترمہ شاہین کاظمی کے تخلیقی سفر کے اس موڑ پرناشر کی حیثیت سے شریک ہونے پرمسرت کا اظہار کرتے ہوئےانہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

Add a review