Print

Jo Aksar Yaad Atay Hain جو اکثر یاد آتے ھیں

5.00 out of 5 based on 5 customer ratings
(5 customer reviews)

$ 18

Product Description

اس کتاب میں شامل تحریریں”جسارت” میں شائع ہوتی رہی ہیں مگر تدوین کے وقت کچھ کتر بیونت کے عمل نے انہیں “زیروزبر” بھی کیا۔ سلیم احمد پر تحریر طبعزاد ہے۔ادبی، سیاسی اور مذہبی سربرآوردہ شخصیات سے لیکرامام مسجد اورمحسن ترمذی جیسے معاشرے کے عوامی کرداروںتک سے بیک وقت تعلق نباہنےوالی ان جیسی شخصیات اب ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ بوقلمونی ایسی کہ تین امراء جماعت اور غربائے شہر کوبیک جنبش قلم بھگتا دیا۔
حاطب صاحب کےقلم نےجہاں ایک جانب کئی عامیوں کو چھو کر صندل کردیا تو دوسری جانب بہت سی معروف و مقبول شخصیات کے عامی پہلووں کو اجالتے ہوئے (اچھالتے نہیں) انہیں عوام کے قریب بھی کیا ہے۔ خاکہ نگاری کی روایت کی “ثقاہت ” کادف شگفتگی سے مارتے ہوئےاس سلسہ کو یوں آگے بڑھایا کہ کالم کی صنف کے اس اسلوب کی بازیافت کرتے ہوئے اسکے موجد ٹھہرے۔ متشرع، متدین اور دستار پوش بزرگوں کے تذکرہ کو مزاح کی آمیزش سے اسقدر “قابل قبول” بنا ڈالاکہ زہد، علم، بزرگی، عہدہ اور تجربہ کی ٹوپیاں ایک ایک کرکے گرتی چلی گئیں اورشخصیت کا “انسانی” پہلو نکھرتا گیا–محبت کی اقلیم کشادہ ہوتی گئی۔

Additional Information

Language

Urdu

Size

A5

Binding

Hard

ISBN

978-969-9556-12-8

5 reviews for Jo Aksar Yaad Atay Hain جو اکثر یاد آتے ھیں

  1. 5 out of 5

    :

    Review. By Dr. S. M. Moeen Qureshi

  2. 5 out of 5

    :

    Today Mr. Anwar Sin Roy reviews one of Emel Publication’s books, in daily Jung.

  3. 5 out of 5

    :

    Book Launch “Jo Aksar Yaad Atay Hain جو اکثر یاد آتے ھیں by Emel Publications.
    On 25th April, at Pak-China Center, Islamabad.

  4. 5 out of 5

    :

    Review on the book Jo Aksar Yaad Atay hain . http://fridayspecial.com.pk/epaper/index.php?page=40&date=2015-03-06

  5. 5 out of 5

    :

    Book Launch at Karachi on 3rd may, Wusat Ullah Khan of BBC were amongst the speakers.

Add a review