Kamyabi-Book copy-01

Kamyabi ka Mughalta

4.25 out of 5 based on 4 customer ratings
(4 customer reviews)

$ 15

Atif Hussain

Product Description

سرمایہ داری نظام میں کامیابی اور ناکامی کے تصورات کو جس طرح انسان کے اخلاقی آدرشوں سے لاتعلق کیا گیا ہے، اس سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا کو اصطبل بنایا جا رہا ہے جہاں گھوڑوں کو یہ باور کروایا جائے گا کہ تم انسان کی ارتقایافتہ شکل ہو۔ کامیابی کے گر بتانے والے کرتب بازوں کی پوری کھیپ، انسانیت سے رضاکارانہ دستبرداری کو ایک مقدس مشن بنا کر ہمیں ریس کا گھوڑا بننے پر آمادہ کرنے نکلے ہیں۔
(احمد جاوید)

4 reviews for Kamyabi ka Mughalta

  1. 5 out of 5

    :

    A facebooker’s review of
    Review of Motivational Speaking & Success Literature, کامیابی کا مغالطہ (Fallacy of Success) by Atif Hussain
    —————————————————-
    Last evening was certainly fruitful as I got hold of my copy of Atif’s book along with two other books right from publisher’s office. However, it was not fruitful merely due to the fact that I got hold of it but because I read the whole book in one sitting. Reading a book in one sitting has its own benefits like it allows one to better understand the theme, get gist of the writer’s argument for his case and a certain sense of accomplishment.
    This short but comprehensive book opens up with taxonomy of success and relevant attributes. He rightly points out that success is mostly viewed and presented in purely materialistic terms by the motivational speakers and most of the available success literature. Writer asserts that there is no universal befitting concept of success for all and sundry. In next section he discusses the factor of luck and suitable conditions behind different success stories. There is an interesting point that many, in fact most, successful persons are deluded into believing that their success is a result of their specific traits and that unsuccessful people can be blamed for their miseries and downfall. There is an interesting account of the tricks used by motivational speakers and writers of success literature followed by detailed analysis of the respective flaws and fallacies in such accounts. It comes as a shock that most of the researches presented in support of success sellers does not exist at all. Here writer indulges into some details on success of famous personalities like Steve Jobs, Bill Gates and Warrant Buffet which gives reader a good idea that their respective success are not merely their abilities to think different but it is a combination of ability, suitable conditions and a lot of luck. There is a valid point that while writing a success story we do mention the traits, thinking and decisions involving success of a specific person or business entity but there is a limitation of human mind to account for some non-events which might had otherwise turned everything into big time failure. Thus it is often a substantial role played by a stroke of luck in any success tale.
    This is followed by a detailed section on various notions used by motivational speakers and success literature in their attempt to provide theoretical basis in the business of success. Positivity and Positive Thinking are regarded as keys to unlock success in the business and this section offers a lot of interesting reading on results of various scientific studies on both key points. I was astonished to see how success sellers misuse quasi scientific theories and selected religious texts to support their taller than Mount Everest claims. Atif has brilliantly exposes illusion of ‘law of attraction’ which is notion that says idea that by focusing on positive or negative thoughts a person brings positive or negative experiences into their life.
    Overall this is an interesting reading, logical, comprehensive coverage of topic in everyday Urdu language yet breaking the myths of motivation and success literature in a scientific manner. Atif is ruthless in his analysis but in the last section he is also sympathetic with motivational speakers on the grounds that most of the new comers are themselves ignorant about the fallacies in this field. He maintains that there is over simplification of success stories and that success strategies are mostly founded on flimsy, flawed and lousy notions.
    There is a bibliography at the end which though testifies the various citations made in this work but I point out that it would have been more useful had it been cross referred to the main text. Perhaps it was an overlook.
    In my opinion this is a must read for young women and men onset of their professional lives as well as those who have already into their professional careers looking for tips for a ‘made easy’ success.
    Secondly, an English version will be more useful given the facts that our new generation graduating from colleges is not good at reading Urdu script.
    Kudos to young and wise Atif Hussain!
    Many thanks to Shahid Awan sahib for valuable and priceless books.
    PS. I have not reviewed my review prior to posting, therefore, semantic and syntax correctness is not warranted.

    By: Osman Sohail

  2. 4 out of 5

    :

    کامیابی اور سرمایہ داری نظام – محمد دین جوہر

    صاحب نظر آدمی کل کو جز میں مؤثر دیکھتا ہے کیونکہ وہ کل کو جانتا ہے اور جز کو اہم سمجھتا ہے۔ تہذیبی سطح پر افکار کو زیربحث لانا اور اجتماعی نظام سے اس کی نسبتوں کو متعین کرنا ایک معمول کا مبحث ہے، جس سے عام آدمی کا نہ کوئی سروکار ہے، اور نہ وہ براہ راست اس کی زندگی سے متعلق ہیں۔ جب تہذیبی کل جز میں مؤثر ہو جائے تو وہ عام آدمی کے اخلاقی افعال، سماجی رویوں اور اس کی سوچ کو ایک نئی طرز پر ڈھالنا شروع کرتا ہے۔ عام اور روزمرہ زندگی میں کل کی جز میں تاثیرات کی نشاندھی کر کے ان کو سماجی علوم میں تجزیے کا موضوع بنانا اور قابل اذعان بنا دینا، علم کو زندگی کے جوڑنے کا عمل ہے۔ جناب عاطف حسین کی کتاب ”کامیابی کا مغالطہ“ سرمایہ داری نظام کے فکری اور واقعاتی کل کی عام آدمی کی زندگی سے نسبتوں کو روشن کر دیتی ہے، اور اس روشنی میں جو منظرنامہ سامنے آتا ہے وہ کوئی خوش کن نہیں ہے، بصیرت افروز اور تشویش ناک ہے۔
    گزارش ہے کہ یہ کتاب کئی اعتبار سے اہم ہے۔ ایک تو یہ اردو میں بیک وقت نئے راستے کی تعمیر اور اس پر پہلگامی ہے۔ اپنے علمی طریقۂ کار میں ثقہ ہے۔ کامیابی کا مغالطہاپنے تجزیاتی نتائج میں قابل لحاظ اور معتبر ہے۔ یہ کتاب سرمایہ داری نظام کے مسلکِ کامیابی اور ہماری بنیادی سماجی اقدار کے مابین تضاد اور تناؤ کو مرقوم بناتی ہے۔ کامیابی کا لٹریچر سرمایہ داری نظام میں گھرے ہوئے اور پچھڑے ہوئے انسان پر جو وجودی نقب لگاتا ہے، اس کی لحظہ لحظہ گرگ آشامی کو واشگاف کر دیتی ہے۔ پھر مصنف ایک ایسے انکار پر بضد ہیں جو غلبے کی صورت حال میں اصلِ حیات ہے۔ صد شکر ہے کہ ہمارے ممدوح ہر مغربی چیز کو، خاص طور پر ہمارے معاشرے میں ہر مغربی تداول کو ”اسلام کے عین مطابق“ کہنے سے انکاری ہیں۔ یہی وہ انکار ہے جو مصنف کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مغربی تہذیب کے کل کو ہمارے اجزائے حیات میں دیمک کی طرح مؤثر دکھا دیں۔
    جدید سرمایہ داری نظام کے گھڑیال صفت بطون سے اپنے مقسوم کا نوالہ نکال لانا خوش نصیبی، اور اپنے نوالے سمیت بہتوں کے نوالے سمیٹ لانا کامیابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیابی اس نظام کی کبریت احمر ہے۔ اس نظام کے مدار میں شامل ہر فرد بشر کی گردش حیات کا مقصود اسی کی تلاش ہے۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ سارے ”رزق کا مالک“ تو اب سرمایہ داری نظام ہی ہے، جسے کبھی اقبالؒ نے ”ملک الموت“ کے طور پر دیکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس چیز کا مالک ہے؟ اس نظام کے روبرو انسان بس اپنی قسمت کا مالک ہے۔ کامیابی کی دراز نفسی نے جو مابعدالطبیعیات پیدا کی ہے اس کا بنیادی نکتہ یہی ہے۔ سرمایہ داری نظام نے سارے ”رزق کا مالک“ بن کر انسان کو اپنی ”قسمت کا مالک“ کیوں بنایا، ذرا دیکھیے:
    ”انسان کو اپنی ناکامی اور بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے نظریے کا ایک نتیجہ تو یہ ہو گا کہ ناکام اور بدحال شخص خود اپنی نظروں میں گر جائے گا، جس کے نتائج فرد کے لیے مضر ہیں۔ لیکن اس کی ایک دوسری جہت بھی ہے جس میں اس کی اعلیٰ انسانی آئیڈیلز سے تہی دستی کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ وہ یہ کہ ہر کوئی کامیابی اور ناکامی، خوشحالی اور بدحالی کا خود ذمہ دار ہے تو پھر کسی غریب سے ہمدردی کی کوئی وجہ ہی باقی نہیں بچتی۔ کیونکہ اگر وہ غریب ہے تو اس کا اپنا قصور ہے۔ اس سے ہمدردی کاہے کی؟“ (ص ۳۸)
    ”قسمت کے مالک“ ہونے کا نظریہ انسان کو نفسی طور پر غیرمستحکم رکھتا ہے، اور دوسرے انسانوں سے اخلاقی اور سماجی یک جہتی کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ جدید آدمی کا دھیان کبھی اس طرف نہیں جاتا کہ وہ تو اپنے رزق کا مالک بھی نہیں، کجا یہ کہ قسمت اس کی ملک یمین ہو۔
    دراصل انفرادیت پسندی، آزادی، یکساں مواقع، محنت کی عظمت اور کامیابی کی پرستش اور غریبی کو جرم بنا دینا سرمایہ داری نظام کی بہت ہی بڑی فتح ہے۔ نظام کے وسائل میں چالاکی، ہیرپھیر اور ساز باز سے آگے بڑھنے والوں کو ماڈل اور آئیڈیل کے طور پر پیش کرنا اور پچھڑنے والوں کو ہی مجرم اور قابل تعزیر قرار دینے سے سرمایہ داری نظام کا اہم مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ نظام ہونے کی حد تک یہ بے عیب اور مکمل ہے، اور اگر کوئی ناکام ہوتا ہے تو وہ خود ذمہ دار ہے، نظام کا کوئی قصور نہیں۔ لوگوں کی اکثریت کی محرومی نظام کی خرابی نہیں ہے، ناکام رہ جانے والے انسانوں کی اپنی خرابی اور عیب ہے۔ کامیابی کے لٹریچر اور اس کے واعظین اس لیے ہیں کہ لوگ خود کو اس نظام کی ترجیحات کے مطابق بنانے کی کوشش کریں تاکہ انہیں کامیابی حاصل ہو سکے۔ اگر وہ نہیں بن سکتے تو ازسر نو کوشش کریں۔ جدید آدمی بچارہ اپنی قسمت کے پیچ کھولتا کستا رہتا ہے اور اس کا دھیان کبھی نظام کی طرف نہیں جاتا۔ اس طرح کامیابی کا لٹریچر، عوام کی سیاسی انتظام کاری کا ایک اہم جزو بھی ہے۔
    کامیابی کے لٹریچر میں ”سوچ کی تبدیلی“ پر زور بلاوجہ نہیں۔ سرمایہ داری نظام کے لیے اپنے عمل اور واقعیت کو تبدیل کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ ایسی انسانی سوچ جو تبدیلی کی متمنی اور متقاضی ہو، تبدیلی کے امکانات پر غور کی طرف مائل ہو، اور بالآخر نظام کی طرف منعطف ہو جائے، وہ سوچ سیاسی مضمرات کی حامل بن جاتی ہے۔ اگر ایسی سوچ کو انسان کے داخل ہی میں delegitimize کر دیا جائے، اور خود اسی سے تبدیلی کا مطالبہ شدت سے سامنے لایا جائے تو سیاسی انتظام کاری کے اگلے مراحل آسان ہو جاتے ہیں۔ مصنف نے سوچ کی تبدیلی کے انسانی اور نفسی مضمرات اور نتائج کا بہت اچھا تجزیہ پیش کیا ہے جو ہمارے تناظر میں رہتے ہوئے اخلاقی اور مذہبی حوالوں سے نہایت وقیع ہے۔
    لیکن جدید انسان پر سرمایہ داری نظام کا اصل شبخون امید کی manipulation میں سامنے آتا ہے۔ کامیابی کا لٹریچر اس کی بہت اچھی تصویر پیش کرتا ہے اور مصنف نے بھی اس پر پہلو پر خاص توجہ دی ہے۔ ہمارے لیے یہ پہلو ایمانی اور اخلاقی اعتبار سے اہم ہے۔ امید تاریخ کو ”نہیں“ اور ماورا کو ”ہاں“ کہنے سے ثمرآور ہوتی ہے۔ امید کا منبع تاریخ نہیں، ماورائے تاریخ ہے۔ امید انسان کی بقا کی قوت ہے اور تاریخ و تقدیر فنا کی قوت ہے۔ تاریخ کی سنگلاخ سرزمین میں امید کی جڑ نہیں لگ سکتی۔ امید کی جڑ کہیں اور ہے اور انسان کو تاریخ سے نبرد آزما کرنے کی واحد قوت ہے۔ امید کے بغیر ایمان اور عقیدے کی طرح نظریے کا بھی کوئی معنی نہیں ہے، اور امید کا خاتمہ دراصل انسان ہی کا خاتمہ ہے۔ آندرے مالرو نے کیا خوب کہا تھا کہ عصری تاریخ میں امید مر جاتی ہے، لیکن اسے خود سے بار بار پیدا کرو ورنہ سیاسی عمل ممکن نہ رہے گا۔ لیکن امید تو وجودی طلب ہے، اسے ذہنی مفروضہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کامیابی کا لٹریچر جس طرح سوچ کی منیجمنٹ کرتے کرتے انسانی ذہن کو کچرے کا ڈھیر بنا دیتا ہے، اس طرح امید کی ہیرپھیر کرتے کرتے نفس انسانی کو بھی ملبہ بنا دیتا ہے۔ ان احوال میں انسان کا کسی اخلاقیات، ایمانیات یا کسی بھی نظریے سے جڑے رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ امید کی عدم فراہمی میں انسان کے پاس یا تو مشین بننے کی آپشن رہ جاتی ہے یا حیوان بننا اس کا ”فطری“ آدرش بن جاتا ہے۔ جدید سرمایہ داری نظام جس طرح فطرت کے وسائل کو اپنا ایندھن بناتا ہے، بعینہٖ وہ انسانی وجود کے تمام فطری وسائل کو بھی ہڑپ کر جاتا ہے۔ کامیابی کا لٹریچر اس کی ایک اچھی مثال ہے جسے مصنف نے بہت عمدگی سے واضح کیا ہے۔

    جناب عاطف حسین کی کتاب ”کامیابی کا مغالطہ“ ایمل مطبوعات اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ اپنے لے آؤٹ اور ڈیزائین میں بھی یہ ایک طرح نو کا آغاز ہے۔
    Source: http://daleel.pk/2016/08/02/3355

  3. 5 out of 5

    :

    کامیابی اورناکامی؟
    حسن نثار، روزنامہ جنگ

    آج اپنی غلیظ بلکہ ہر دل غلیظ سیاست سے ناغہ کرتے ہوئے اک ایسے موضوع کا رخ کرتے ہیں جو تقریباً ہر انسانی زندگی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پہلے اس پر کچھ ذاتی خیالات و معروضات جس کے بعد اک انوکھی کتاب کی روشنی میں کامیابی ناکامی کا جائزہ لیں گے۔ اس کتاب کا عنوان ہے ’’کامیابی کا مغالطہ‘‘۔کامیابی کیا ہے؟اک ایسی شے جس کیلئے لوگ راتوں کو جاگتے ہیں حالانکہ اس کیلئے صرف دنوں کو جاگتے رہنا ہی کافی ہے۔کچھ کیلئے ناکامیاں دراصل کامیابیوں کی فل ڈریس ریہرسلیں ہوتی ہیں۔ جاگو جب دنیا سو رہی ہوتی ہے۔ بھاگو جب لوگ لمبے پڑے ہوتے ہیں۔کام کرو جب لوگ آرام کررہے ہوتے ہیں۔ خواب دیکھو جب لوگ صرف خواہشیں پال رہے ہوتے ہیں۔راتوں رات کامیابی کے پیچھے بھی سالوں کی تپسیا ہوتی ہے۔کامیابی کی معراج یہ ہے کہ دولت اور شہرت کی خواہش ہی دم توڑ دے۔اگر تم اپنے کام سے محبت کرو گے، وہ تم سے محبت کرے گا اگر تم اپنے کام کی عزت کرو گے، وہ تمہاری عزت کرے گا۔کامیابی کے رستے ہموار نہیں، دشوار ہوتے ہیں۔کامیابی ….. کام کی اولاد ہے۔ہرناکام آدمی یہی کہتا ہے کہ کامیابی مقدر کی مرہون منت ہے اوراب آخر پر دیو مالائی امریکی صدر ابراھم لنکن کی زندگی پر ایک نظر:1831ء کاروبار میں ناکام ہوا۔1832ء LEGISLATURE کیلئے شکست کھائی۔1833ء میں پھر بزنس فلاپ کرا بیٹھا۔1836ء میں نروس بریک ڈائون کا شکار ہوگیا۔1838ء سپیکر بننے نکلا، منہ کی کھائی۔1840ء ELECTOR کیلئے لڑا اور ہار گیا۔1843ء کانگریس کیلئے میدان میں اترا اور چاروں شانے چت۔1855ء سینٹ کیلئے ہاتھ پائوں مارے شکست کھائی۔1856ء نائب صدر بننا چاہا، ناکام رہا۔1858ء دوبارہ پھر سینٹ کیلئے ہار گیا۔1860ء امریکہ کا صدر منتخب ہوگیا اور صدر بھی کیسا؟ ’’ایسا کہاں سے لائوں کہ تجھ سا کہیں جسے‘‘ایک انداز فکر یہ بھی ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کوئی اورنہیں، انسان خود کرتا ہے کیونکہ کچھ کے نزدیک ان کی DEFINATION اور معیار ہی دنیا جہان سے نرالے ہوتے ہیں۔ کسی شخص کیلئے کامیابی کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اپنی مرضی اور پسند کی زندگی بسر کی نہ دولت سے ڈکٹیشن لی نہ شہرت سے لیکن عاطف حسین کی کتاب ’’کامیابی کا مغالطہ‘‘ اک اور ہی طرح کا مطالعہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہوگی کہ اردو زبان میں اس طرح کی کتابوں کا قحط ہے۔کتاب کو سمجھنے کیلئے اس فٹ نوٹ پر غور کرنا بہتر ہوگا جو کتاب کا حقیقی تعارف ہے۔
    “A CRITICAL REVIEW OF MOTIVATIONAL SPEAKING & SUCCESS LITERATURE.”
    کامیابی کامقبول تصور کیا ہے؟’’کامیاب انسان کی دو لفظی ترکیب سن یا پڑھ کر آپ کے ذہن میں کیا تصور ابھرتا ہے۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں بل گیٹس، سٹیو جانبر اور میاں منشا جیسے نام آئیں گے۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں باراک اوباما، اے پی جے عبدالکلام، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تصور ابھرے گا۔ بہت کم (ایک یا دو فیصد) کے ذہن میں شاید مدر ٹریسا یا ایدھی کا نام بھی آئے تاہم ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کسی کے ذہن میں بھی وطن کی حفاظت کے جذبے میں جان سے گزر جانے والے کسی گمنام سپاہی، دور دراز دیہات میں ساری زندگی عبادت سمجھ کر بچوں کو پڑھانے اور اس پر فخر کرنے والے استاد، عمر بھر مزدوری کلرکی کر کے اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی مہیا کرتے اورآخری عمر میں ان کی شادیاں اوربچے دیکھ کر خوشی سے نہال ہوتے خمیدہ کمر بوڑھے یا کسی ایسے پڑھے لکھے شخص جس نے اپنا کیرئیر چھوڑ کر کسی مسجد کی امامت سنبھال لی ہے اور اب قناعت کی زندگی بسر کررہا ہے اور روح کی گہرائیوں تک مطمئن ہے کا تصور پیدا نہیں ہوگا کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ناکام نہیں بھی تو کم از کم معمولی ضرور سمجھا جاتا ہے۔اب آپ ان چاروں کیٹگریزکی خصوصیات پر غور کریں۔پہلی کیٹیگری: دولت شہرت۔دوسری کیٹیگری: حالات سے لڑ کر اپنی کمیونٹی ملک یا قوم کیلئے کوئی کارنامہ ، شہرت۔تیسری کیٹیگری: انسانیت کی بے لوث خدمت، شہرت۔چوتھی کیٹیگری: اطمینان ،خوشی۔صاحب کتاب کا کمال ہے کہ مندرجہ بالا کی ہلکی پھلکی وضاحت، تقابلی جائزہ و موازنہ کے بعد بہت کچھ قاری کے ذہن، ضمیر، مزاج، افتاد طبع، میلان، رجحان پر چھوڑ دیا گیا ہے۔لکھتے ہیں…..’’اب لوگ اس سے قطع نظر کہ ان میں کیا صلاحیت ہے، ان کی افتاد طبع کیسی ہے یا انہیں کس چیز میں خوشی ملتی ہے، محض ’’معمولی‘‘ گالی سے بچنے کیلئے انہی ’’غیر معمولی‘‘ انسانوں جیسا بننا چاہتے ہیں اورجب نہیں بن پاتے تو اپنی ہی نظروں میں گر جاتے ہیں۔ SELF ESTEEM کھو دیتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘۔’’کامیابی‘‘ کے معروف تصور اور SUCCESS LITERATURE پر بحث سمیٹتے ہوئے مصنف اپنے ایک محترم استاد کی مثال دیتا ہے کہ انجینئرنگ چھوڑ پروفیسر بنے، درجنوں کو بام عروج تک پہنچایا، شاگرد اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچے لیکن پروفیسر صاحب اپنے عام سے گھر اور لائف سٹائل میں اتنے پرسکون، آسودہ اورشانت ہیں کہ اس کی تاب لانا مشکل ہے‘‘۔
    Source: http://search.jang.com.pk/print/119212-kamyabi-nakami-1

  4. 3 out of 5

    :

    ترقی یافتہ مغربی ممالک میں طویل عرصے سے سیلف ہیلف لٹریچر کی دھوم ہے۔ وہاں اس موضوع پر لکھی گئی کتابیں ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ قریب دو عشروں سے پاکستان میں بھی مغربی سیلف ہیلپ لٹریچر کے تراجم کر کے دھڑا دھڑ فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کتابوں میں مختلف واقعات کی بنیاد پر زندگی کے سفر میں کامیابی کے گُر سکھائے جاتے ہیں۔ اب تو پاکستان میںکئی ایسے موٹیویشنل ٹرینر بھی ہیں جو مختلف تعلیمی اداروں اور دفاتر میں جاکر ورک شاپس منعقد کر کہ لوگوں کو کامیاب بننے کے طریقے سکھاتے ہیں ۔
    ہمارا احساس ہے کہ ایک طویل عرصے سے ایسی کتابوں اور کامیابی کا سبق دینے والے خطیبوں کو ایک طرح سے Passive قسم کے قارئین و سامعین میسر تھے ۔ اس صورتحال میں یہ کتاب ان کے برعکس نقطہ نظر کے ابلاغ کا نقطۂ آغاز ہے۔ مصنف عاطف حسین نے پہلے ان موٹیویشنل سپیکرز کی ’’چرب زبانیوں‘‘ کا تعاقب فیس بک پر تبصروں کی صورت میں کیا۔
    جب وہاں آراء کا تصادم ہوا تو انہوںنے سنجیدگی سے اس موضوع کا مطالعہ شروع کیا اور واقعی شواہد اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر ان موٹیویشنل سپیکرز کے بلند بانگ دعوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا۔ کتاب میں انہوں نے حتی المقدور حوالوں کے ساتھ اپنا موقف بیان کرنے کی کوشش ہے۔
    جہاں بھی کوئی انگریزی حوالہ دیا ہے اس کے ساتھ قارئین کی آسانی کے لیے اردو ترجمہ بھی شامل کر دیا ہے۔ مصنف نے موٹیویشنل سپیکرز کے کامیابی ،خوشی، قسمت وغیرہ سے متعلق مقبول نظریات اور کہانیوں کو ڈھکوسلے قرار دیا ہے اور ان کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان کی کامیابی ، خوشی اور راحت کی تعریف الگ ہوتی ہے جو اس کے ماحول، روایت اور امکانات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، اسے کارپوریٹ دنیا کی عینک سے دیکھنا زیادتی ہے۔ مصنف کے کچھ تبصروں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم امید ہے یہ کتاب شائقین مطالعہ کی لائبریری میں مفید اضافہ ثابت ہوگیترقی یافتہ مغربی ممالک میں طویل عرصے سے سیلف ہیلف لٹریچر کی دھوم ہے۔ وہاں اس موضوع پر لکھی گئی کتابیں ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ قریب دو عشروں سے پاکستان میں بھی مغربی سیلف ہیلپ لٹریچر کے تراجم کر کے دھڑا دھڑ فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کتابوں میں مختلف واقعات کی بنیاد پر زندگی کے سفر میں کامیابی کے گُر سکھائے جاتے ہیں۔ اب تو پاکستان میںکئی ایسے موٹیویشنل ٹرینر بھی ہیں جو مختلف تعلیمی اداروں اور دفاتر میں جاکر ورک شاپس منعقد کر کہ لوگوں کو کامیاب بننے کے طریقے سکھاتے ہیں ۔
    ہمارا احساس ہے کہ ایک طویل عرصے سے ایسی کتابوں اور کامیابی کا سبق دینے والے خطیبوں کو ایک طرح سے Passive قسم کے قارئین و سامعین میسر تھے ۔ اس صورتحال میں یہ کتاب ان کے برعکس نقطہ نظر کے ابلاغ کا نقطۂ آغاز ہے۔ مصنف عاطف حسین نے پہلے ان موٹیویشنل سپیکرز کی ’’چرب زبانیوں‘‘ کا تعاقب فیس بک پر تبصروں کی صورت میں کیا۔
    جب وہاں آراء کا تصادم ہوا تو انہوںنے سنجیدگی سے اس موضوع کا مطالعہ شروع کیا اور واقعی شواہد اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر ان موٹیویشنل سپیکرز کے بلند بانگ دعوؤں کا تنقیدی جائزہ لیا۔ کتاب میں انہوں نے حتی المقدور حوالوں کے ساتھ اپنا موقف بیان کرنے کی کوشش ہے۔
    جہاں بھی کوئی انگریزی حوالہ دیا ہے اس کے ساتھ قارئین کی آسانی کے لیے اردو ترجمہ بھی شامل کر دیا ہے۔ مصنف نے موٹیویشنل سپیکرز کے کامیابی ،خوشی، قسمت وغیرہ سے متعلق مقبول نظریات اور کہانیوں کو ڈھکوسلے قرار دیا ہے اور ان کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان کی کامیابی ، خوشی اور راحت کی تعریف الگ ہوتی ہے جو اس کے ماحول، روایت اور امکانات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، اسے کارپوریٹ دنیا کی عینک سے دیکھنا زیادتی ہے۔ مصنف کے کچھ تبصروں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم امید ہے یہ کتاب شائقین مطالعہ کی لائبریری میں مفید اضافہ ثابت ہوگی.
    https://kitabupdates.wordpress.com/2016/06/20/%DA%A9%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%B7%DB%81%D8%B9%D8%A7%D8%B7%D9%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86/

Add a review