Final Title Rail

Roodad Rail Ki روداد ریل کی

PKR 670

Product Description

ریلوے کا آغاز، حائل مشکلات، ارتقائی منازل اوربرصغیر میںاس نظام کے اجراء کے بعد وطنِ عزیز میں اس کے حشر نشر کے بارے میں دلچسپ، مضحکہ خیز، خوفناک اور حیرت انگیز حالات اور واقعات پر مبنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتاب فقط صنعتی دور کی ممتاز ترین ایجاد ریل اور اس کے ارتقا ہی کی کہانی نہیں بلکہ بدلتے زمانوں کا ایک ارژنگ ہے۔ قاضی صاحب کے اِس غیر معمولی نگار خانے میں جِتنے بھی عکس اور نقشہ ہائے صد رنگ آوایزاں ہیں انھیں آنجناب نے ایک مشاق مصور کی طرح (قاضی صاحب بذاتِ خود ایک بہترین مصور بھی ہیں) سادہ اِبتدائی رنگوں، اور بنیادی خطوط سے یوں لفظ بہ لفظ رچا ہے کہ اِس تحریر میں تاریخ کے پنے اپنے اُلجھاو کو اپنے آپ سُلجھاتے ہیں- ایک تاریخی مضمون کو تاریخیت کی لپیٹ سے محفوظ رکھنا اور تاریخ نویسی کی تنگنائے خشک سے بچا کر اسکی داستان کی ایک الف لیلوی وادی میں نمو کرنا قاضی صاحب ہی کا خاصہ ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ قاضی صاحب ایک محقق و مورخ ہیں، داستان گو ہیں کہ بگولہ پا سیاح ہیں۔ اور دھوئیں کے بادل اُڑاتی، فراٹے بھرتی، فلک شگاف چنگھاڑ بُلند کرتی ریل گاڑی بذاتِ خود اپنے زمانے کی شاہد ہے کہ مشہود۔ ابھی سلطانہ ڈاکو، جو اپنے وقت کا رابن ہُڈ ہے سرپٹ گھوڑا دوڑاتا آئے گا اور انگریز سرکار کی ریل گاڑی پر دھاوا بولے گا؛ لیجیے ہند تقسیم ہوا اور ریل گاڑی اِنسان کی بربریت کی انحد استعداد کی گواہ بنی، اور ادھر نوخیز طالب علموں کی ایک ٹولی ریل پر سوار گاتی بجاتی کسی منزل کی طرف چلی۔ تاریخ کےمہاساگر کی موجوں پر بنتے، بگڑتے نقش الفاظ کو کاغذ کی گاگر میں سمیٹنے کے لیے قاضی صاحب کا وسیع مطالعہ، اِن کے جیسی من مست لگن اور مگن ہو کر لکھنے کی صلاحیت، کے ساتھ اِنکی سی قدرتِ اظہار درکار ہے جو اِس داستان میں یونانی المیے کا کرب، مرثیے کی تہذیب، غزل کا ایجاز اور ڈرامے کا اعجاز، زیرِلب خندہ افروز واقعہ نِگاری کے رنگ بھرے۔ اِس داستان کا آپ بیتی پر مبنی باب اپنی تحیر آمیز سادگی اور وارفتگی کا مثالی مِلن ہے۔ ریل گاڑی کی اِس صنعتی، سماجی اور ذاتی داستان کو پڑھنے کے بعد مجھ سا قاری بے اختیار سوچنے لگتا ہے کہ آیا یہ ایک خواب تھا، یا جادو۔ سائنس کا کرشمہ تھا یا آرٹ کا۔ یوں لگتا ہے جیسے اُودی گھٹا کے سائے تلے غنایت کے رس سے بھری کوئی نظم پڑھ لی ہے، دھڑکن کی لے پر بجتا ہوا کوئی نغمہ سُن لیا ہو۔ اِس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری خود کو پلیٹ فارم پر کھڑا نہیں پاتے بلکہ اپنے گھر کی طرف چل پڑتے ہیں جہاں پیپل کا پیڑ ہے، چڑیاں چہک رہی ہیں، جوُہی، بیلا، چمپا، گیندا،سوسن کِھلے ہیں اور بچے قطار بنائے ایک دائرے میں چُھک، چُھک ریل گاڑی کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔ سلمان آصف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحبو! ہمارے قبلہ قاضی صاحب کی لکھی داستان آپ کے ہاتھ ہے۔ برصغیر میں جدید زندگی کے آغاز کا خوبصورت استعارہ- ریل کی پٹڑی – آج بہت سوں کے لئے ناسٹلجیا ہے کہ فضا میں سفر کا چلن عام ہو چلا اور زمین زادوں کی دھرتی سے جڑت کمزور پڑتی گئی۔ ریل کی سیٹی کی آواز، دخانی انجن کا دھواں، انجن کی دھمک اور چھک چھک کی موسیقیت کے ساتھ گذشتہ کئی نسلوں کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ خوشی اور غم کی یادہو یا کاروباری و تفریحی سفر کی بات، دھرتی کے سینے سے چمٹی یہ دو آھنی لکیریں محض رستہ نہیں ایک بھر پور معنویت کے ساتھ زندگی اور ترقی کا استعارہ تھیں ۔ معاصر دنیا کے برعکس ہمارے ہاں اب ریل ماضی کا ایسا بوسیدہ نشان بن کر رہ گئی ہے کہ چاہے تو اس پہ ماتم کر لیجئے یا سینے سے لگا کر فخر ، مستقبل کا کوئی خوش کن منظر چشم تصور میں نہیں آئے گا۔ خیر۔ آئیے چلتے ہیں کتاب کی طرف۔ قاضی صاحب ریل کے پرانے کارکن ساتھی ہیں ، عمر بھر کا ساتھ رہا۔ اور اس نسل کے فرد ہیں کہ جن کے لیے ملازمت بھی نامیاتی رنگ کا زندہ تعلق ہوا کرتا تھا ۔ آج کے کاروباری اور افادی تعلق کی طرح نہیں کہ جس کی بنیاد صرف اجرت پر رکھی جاتی ہے۔ داستان کی قدیم صنف کا مزا ریل کے جدید موضوع کے ساتھ صاحبان ذوق کے لئے ایک پرلطف تجربہ ہے۔ معلومات اور واقعات کا ایسا خزینہ اور پھر اہل زبان کے رواں اور شستہ قلم کا بے ساختہ اور رچا ہوا اسلوب کہ جانے کون کون سی حسیات کی تسکین کا سامان۔ ریل کے اس تذکرے میں زوال کا نوحہ بھی ملتا ہےاور شگفتہ واقعات خندہ زیرلب کا سبب بھی بنتے ہیں۔ دلچسپی کا عنصر کسی افسانے یاناول سے کم نہیں اور معلومات کسی نصابی کتاب سے بھی زیادہ، مگر اسلوب کی خوبصورتی قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے اور آخری سطر تک برقرار رہتی ہے۔ قاضی صاحب نے یہ کتاب لکھ کر نامعلوم فرض کفایہ ادا کیا یا فرض عین مگر ہم سے رندان خرابات کا ذوقی ایمان تازہ کر دیا۔ شاہد اعوان

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Roodad Rail Ki روداد ریل کی”